رو مال

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - منہ پونچھنے کا کپڑا، رُو پاک۔ "نواب بیگم سیڑھی پر رُو مال بچھا کر بیٹھ گئیں"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگِ چمن، ٢٠١ ) ٢ - تکونا یا چوکور اونی ریشمین یا سوتی کپڑا جو کاندھے پر ڈالتے یا سر پر اوڑھتے یا باندھتے ہیں جو عموماً چادر سے چھوٹا ہوتا ہے۔  ُجھکے شانے یہ چوخانے کا رومال عبا کے بند میں تسبیحِ احمر      ( ١٩٣٣ء، سیف و سبو، ٦٤ )

اشتقاق

فارسی اسم 'رُو' کو 'مالیدن' مصدر سے حاصل مصدر 'مال' کے ساتھ ملا کر بنا ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ داخل ہوا۔ سب سے پہلے ١٥٦٤ء میں "حسن شوقی" کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - منہ پونچھنے کا کپڑا، رُو پاک۔ "نواب بیگم سیڑھی پر رُو مال بچھا کر بیٹھ گئیں"      ( ١٩٨٧ء، گردش رنگِ چمن، ٢٠١ )

اصل لفظ: رُو
جنس: مذکر